یورو زون میں افراطِ زر 3 سال کی بلند ترین سطح پر ہے ، صدر یورپی مرکزی بینک


برسلز :یورپی یونین کے ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال ستمبر میں یورو زون میں افراطِ زر کی حتمی شرح 3.8 فیصد رہی، جو اگست کی 3.2 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔ یہ شرح رواں ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے ابتدائی تخمینے کے مطابق ہے اور گزشتہ تین سال کی بلند ترین سطح ہے۔یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے حال ہی میں چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ افراطِ زر میں اضافے کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتوں میں 18.8 فیصد اضافہ ہے۔ اس کا مجموعی قیمتوں پر اثر پڑے گا۔ انہیں بالخصوص یہ تشویش ہے کہ کہیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پوری معیشت میں منتقل ہو کر افراطِ زر کے دوسرے دور کا سبب نہ بن جائیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ ایسی صورت میں کارکنان تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جبکہ اجرتوں میں اضافہ مزید افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں طلب میں مزید اضافہ ہوگا اور قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ تاہم، فی الحال ایسے رجحانات دیکھنے میں نہیں آئے۔کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ اگر درمیانی اور طویل مدت کے لیے افراطِ زر کی توقعات موجودہ سطح سے مزید بڑھیں یا دوسرے دور کے افراطِ زر کے اثرات ظاہر ہونے کے واضح اشارے ملیں تو اقدامات اٹھانا لازم ہے۔ موجودہ صورتحال میں یورپی مرکزی بینک کے اقدامات مناسب ہیں۔

Comments (0)
Add Comment