چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے تیار ہے، چینی وزیر اعظم


بیجنگ :چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی۔پیر کے روز لی چھیانگ نے کہا کہ چین تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، سبز معدنی وسائل اور باہمی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور اے آئی جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے محرکات کو مشترکہ طور پر مضبوط بنا سکیں۔ دونوں فریقوں کو قانون کے نفاذ اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اشتراک کو مضبوط بنانے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے موجودہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے تاجکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔امام علی رحمان نے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ چین کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا اور اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں دورہ چین کے دوران صدر شی جن پھنگ کے ساتھ ان کی کامیاب ملاقات ہوئی تھی، جس میں کئی اہم امور پر اتفاقِ رائے حاصل ہوا اور تاجکستان۔چین تعلقات کی ترقی کے لیے سمت متعین ہوئی۔ تاجکستان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ تاجکستان چین کے ساتھ تجارت و معیشت، صنعت، زراعت، توانائی و معدنی وسائل، باہمی رابطوں اور اے آئی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے اور عوامی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.